السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2466. -- باب: من كره أخذ الأجرة عليه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے اس (قرآن) پر اجرت لینے کو مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلِيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهْدَى رَجُلٌ إِلِيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ ⦗٢٠٧⦘ أُعَلِّمُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ بِطَوْقٍ مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کو لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سکھایا۔ ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان ہدیے کے طور پر دی۔ میں نے کہا: کوئی مال نہیں، میں اسے اللہ کے راستے میں پھینک دوں گا۔ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کروں گا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایک آدمی نے لکھنے اور قرآن مجید کے بدلے کمان دی ہے، وہ مال تو نہیں، میں اسے اللہ کے راستے میں پھینکوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو پسند کرتا ہے کہ آگ کا طوق ڈالے تو اسے قبول کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11681]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11681 in Urdu