السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11714
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ بَعْضُ عُمُومَتِهِ، قَالَ قَتَادَةُ: اسْمُهُ ظُهَيْرٌ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ. قَالَ الْقَوْمُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِالثُّلُثِ، وَلَا بِالرُّبُعِ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں محاقلہ کیا کرتے تھے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے چچوں میں سے کوئی آئے، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کا نام ظہیر رضی اللہ عنہ تھا، کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی ہمارے لیے زیادہ نفع والی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیا کام ہے؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو کرنے دے اور ثلث، ربع اور کھانے کے بدلے کرایہ پر نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11714]
تخریج الحدیث: «مسلم 1548»
الحكم على الحديث: مسلم 1548
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11714 in Urdu