السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11718
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا ⦗٢١٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ" فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؟ فَقَالَ:" أَكْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ كَانَتْ لِي أَرْضٌ أَكْرَيْتُهَا" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَكُونُ سَالِمٌ سَمِعَ عَنْ رَافِعٍ الْخَبَرَ جُمْلَةً، فَرَأَى أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ عَلَى الْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَمْ يَرَ بِالْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسًا؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَقَدْ بَيَّنَهُ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.
(١١٧١٨) ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا: رافع والی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا رافع اکثر اپنی طرف سے بات کردیتے ہیں۔ اگر میری زمین ہوتی تو کرایہ پر دیتا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: سالم نے رافع سے حدیث سنی تو خیال کیا کہ انھوں نے سونے اور چاندی کے بارے میں بیان کی ہے۔ اس لیے وہ سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ نے بھی رافع سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ آپ نے زمین کو پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11718]
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: سالم نے رافع سے حدیث سنی تو خیال کیا کہ انھوں نے سونے اور چاندی کے بارے میں بیان کی ہے۔ اس لیے وہ سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ نے بھی رافع سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ آپ نے زمین کو پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 1392»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11718 in Urdu