🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11724
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدٍ هُوَ ابْنُ ظُهَيْرٍ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَيَشْتَرِطُ الْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ؛ فَإِنَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ:" مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لَيَدَعْ"، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقِ تَمْرٍ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سیدنا اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے بے نیاز ہو جاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پر دے دیتا اور تین نالیوں کی، بھوسے کی، ربیع کے پانی کی، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا: ”جو اپنی زمین سے بے نیاز ہو، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑ دے۔“ اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے: میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11724]
تخریج الحدیث: «ابن ماجه 2460»

الحكم على الحديث: ابن ماجه 2460

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11724 in Urdu