السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11724
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدٍ هُوَ ابْنُ ظُهَيْرٍ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَيَشْتَرِطُ الْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ؛ فَإِنَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ:" مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لَيَدَعْ"، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقِ تَمْرٍ.
(١١٧٢٤) حضرت رافع بن خدیج کے بھتیجیظہیر کے بیٹے حضرت رسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے مستثنیٰ ہوجاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پردے دیتا اور تین نالیوں کی، بھوسے کی، ربیع کے پانی کی، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس رافع بن خدیج آئے اور کہا: تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا: جو اپنی زمین سے بےبس ہو، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑدے اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے: میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11724]
تخریج الحدیث: «ابن ماجه 2460»
الحكم على الحديث: ابن ماجه 2460
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11724 in Urdu