السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ:" لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟" فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي، لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ:" أَرْبَيْتُمَا"، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور وہ پانی لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس کے لیے زراعت کر رہے ہو اور زمین کس کی ہے؟“ رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میری زراعت، میرے بیج اور میرے کام کی وجہ سے نصف میرا اور نصف بنی فلاں کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سودی لین دین کیا ہے، تو زمین اس کے مالک پر لوٹا دے اور اپنا خرچ لے لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المزارعة/حدیث: 11726]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 3402»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11726 in Urdu