🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2479. -- باب: من أحيا أرضا ميتة ليست لأحد، ولا في حق أحد، فهي له
-- باب: ”جس شخص نے کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جو نہ کسی کی ملکیت ہو اور نہ کسی کے حق میں آتی ہو تو وہ اسی کی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11776
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ قَبْلَهُ فِهيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ" قَالَ: فَلَقَدْ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ بَيَاضَةَ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَجَمَةٍ لِأَحَدِهِمَا غَرَسَ فِيهَا الْآخَرُ نَخْلًا، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ عَنْهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَالْعُمُّ قَالَ بَعْضُهُمُ: الَّذِي لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الْعُمُّ الْقَدِيمُ، وَقَالَ بَعْضُهُمُ: الطَّوِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ أَنَّهُ قَالَ: الْعُمُّ: الشَّبَابُ.
یحییٰ بن عروہ بن زبیر اپنے والد (عروہ رحمہ اللہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی جو اس سے پہلے کسی کی نہ تھی وہ اسی کی ہے اور «عِرْقٍ ظَالِمٍ» ”ظالم رگ والے“ کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“ پھر کہا: مجھے اس حدیث والے آدمی نے بیان کیا کہ اس نے بنی بیاضہ کے دو آدمیوں کو دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جھاڑی دار زمین کا جھگڑا لے کر آئے جو ان میں سے ایک کی تھی اور دوسرے نے اس میں کھجور کے درخت لگا دیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کے لیے اس کی زمین کا فیصلہ کیا اور کھجوروں والے کو حکم دیا کہ وہ اپنی کھجوریں وہاں سے نکال لے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ وہ کلہاڑوں سے کھجوروں کی جڑوں پر ضربیں لگا رہا تھا، حالانکہ وہ «عُمّ» کھجوریں تھیں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «الْعُمُّ» کے بارے میں بعض نے کہا ہے: جو نہ چھوٹی ہو نہ لمبی، اور بعض نے کہا ہے کہ «الْعُمُّ» کا مطلب پرانی ہے، اور بعض نے کہا ہے: لمبی۔ شیخ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق بن یسار سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: «الْعُمُّ» کا مطلب جوان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11776]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11776 in Urdu