السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2486. -- باب: ما يكون إحياء، وما يرجى فيه من الأجر
-- باب: احیاء (آباد کرنا) کس چیز سے ثابت ہوتا ہے، اور اس میں جس اجر کی امید کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 11821
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ" جَعَلَ التَّحَجُّرَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَإِنْ تَرَكَهَا حَتَّى يَمْضِيَ ثَلَاثُ سِنِينَ فَأَحْيَاهَا غَيْرُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نشان لگانے کی مدت تین سال مقرر کی، پس اگر وہ چھوڑ دے یہاں تک کہ تین سال گزر جائیں، پھر اس آدمی کے علاوہ کسی اور نے آباد کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11821]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11821 in Urdu