🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2500. -- باب: الصدقات المحرمات
-- باب: ان صدقات کے بیان میں جنہیں (فروخت کرنے یا ہبہ کرنے سے) حرام قرار دے کر وقف کر دیا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11889
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالًا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا"، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْأَقْرَبِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَفِي الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا يَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِي بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْحَفَرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ مانگا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ نہ وہ بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ اسے وارث بنایا جائے گا، پس فقراء، رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر اور مہمان کے لیے اسے صدقہ کر دیا اور کہا: جو اس کا والی ہو، اگر وہ معروف طریقے سے اس میں سے کھا لے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11889]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11889 in Urdu