السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2501. -- باب: جواز الصدقة المحرمة وإن لم تقبض
-- باب: حرام (موقوفہ) صدقہ کے جواز کے بیان میں، اگرچہ اس پر قبضہ نہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 11902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ وَاللهِ مَا أَصَبْتُ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهَا، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا"، فَجَعَلَهَا عُمَرُ أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ وَلَا تُورَثَ، وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَالرِّقَابِ، وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَ مِنْهَا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، ثُمَّ أَوْصَى بِهِ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ إِلَى الْأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْبَحِيرَةِ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ آلِ عُمَرَ وَآلِ عَلِيٍّ أَنَّ عُمَرَ وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ، وَجَعَلَهَا بَعْدَهُ إِلَى حَفْصَةَ، وَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ، وَوَلِيَهَا بَعْدَهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَتْ صَدَقَتَهَا حَتَّى مَاتَتْ. وَبَلَغَنِي عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ وَلِيَ صَدَقَتَهُ حَتَّى مَاتَ. قَالَ فِي الْقَدِيمِ: وَوَلِيَ الزُّبَيْرُ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَوَلِيَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبْضَهُ اللهُ، وَوَلِيَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اور اس جیسی پسندیدہ چیز مجھے کبھی نہیں ملی، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس کی اصل روک لے اور اس کی پیداوار صدقہ کر دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ شرط لگائی کہ نہ اسے بیچا جائے گا، نہ ہبہ ہوگا اور نہ وارث بنایا جائے گا اور فقراء، مساکین، مسافر، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرنے میں صدقہ کر دیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں اس پر جو اس کا والی بنے کہ اس سے معروف طریقے سے کھائے اور (دوسروں کو) کھلا دے، بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے۔“ پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے لیے وصیت کر دی، پھر آلِ عمر میں سے جو بڑے (معزز) ہوں ان کے لیے وصیت کی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البحیرہ میں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے آلِ عمر اور آلِ علی رضی اللہ عنہم کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بنا دیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور ان کے بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے والی بنے، اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا اپنے صدقے کی والی رہیں یہاں تک کہ فوت ہو گئیں۔ اور مجھے کئی انصار کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ اپنے صدقے کے والی رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
(ج) ایک روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11902]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب البحیرہ میں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے آلِ عمر اور آلِ علی رضی اللہ عنہم کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بنا دیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے اور ان کے بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے والی بنے، اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا اپنے صدقے کی والی رہیں یہاں تک کہ فوت ہو گئیں۔ اور مجھے کئی انصار کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ اپنے صدقے کے والی رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
(ج) ایک روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ صدقہ کے والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ والی بنے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11902]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11902 in Urdu