السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2502. -- باب: وقف المشاع
-- باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو وقف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11905
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ قَطُّ مِثْلَهُ، تَخَلَّصْتُ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَبْسُ الْأَصْلِ وَسَبْلُ الثَّمَرَةِ" قَالَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيِّ: وَرُوِيَ أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَقَفَ أَحَدَهُمَا، أَشْقَاصًا مِنْ دُورِهِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ الْعُلَمَاءُ، وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِالسَّهْمِ بِالْغَابَةِ الَّذِي وَهَبَتْ لَهُ حَفْصَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا مال ملا ہے جس جیسی کبھی کوئی چیز نہیں ملی، خیبر میں ایک سو حصوں کا مالک ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ اس سے اللہ کا قرب حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل کو روک لے اور پھل اللہ کے راستے میں وقف کر دے۔“
ابویحییٰ فرماتے ہیں: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک نے اپنے گھر کے حصے وقف کیے، علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہبہ کیے ہوئے حصے وقف کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11905]
ابویحییٰ فرماتے ہیں: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما میں سے ایک نے اپنے گھر کے حصے وقف کیے، علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہبہ کیے ہوئے حصے وقف کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11905]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11905 in Urdu