السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2503. -- باب: من قال: لا حبس عن فرائض الله عز وجل
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے کہا کہ اللہ عزوجل کے مقرر کردہ فرائض (وراثت) سے روکنے کے لیے کوئی وقف نہیں ہے
حدیث نمبر: 11913
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ⦗٢٧٠⦘ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَائِطِي هَذَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ قِوَامَ عَيْشِنَا،" فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا بَعْدُ" هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، كُلُّهُنَّ مَرَاسِيلُ، وَالْحَدِيثُ وَارِدٌ فِي الصَّدَقَةِ الْمُنْقَطِعَةِ، وَكَأَنَّهُ تَصَدَّقَ بِهِ صَدَقَةَ تَطَوُّعٍ، وَجَعَلَ مَصْرَفَهَا إِلَى اخْتِيَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبَوَيْهِ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں اذان خواب میں سنائی گئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ صدقہ ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ پھر ان کے والدین آئے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے گزر بسر کا ذریعہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کی طرف لوٹا دیا، پھر وہ دونوں فوت ہو گئے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے وارث بن گئے۔
یہ روایت مرسل ہے، ابوبکر بن حزم نے عبداللہ بن زید کو نہیں پایا، اور یہ عبداللہ بن زید سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے اور وہ سب مرسل ہیں۔ یہ حدیث غیر دائمی صدقے کے بارے میں وارد ہوئی ہے، گویا کہ انہوں نے نفلی صدقہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خرچ کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے والدین پر صدقہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11913]
یہ روایت مرسل ہے، ابوبکر بن حزم نے عبداللہ بن زید کو نہیں پایا، اور یہ عبداللہ بن زید سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے اور وہ سب مرسل ہیں۔ یہ حدیث غیر دائمی صدقے کے بارے میں وارد ہوئی ہے، گویا کہ انہوں نے نفلی صدقہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خرچ کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے والدین پر صدقہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11913]
تخریج الحدیث: «الدارقطني 4/ 202»
الحكم على الحديث: الدارقطني 4/ 202
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11913 in Urdu