السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2505. -- باب: الحبس في الرقيق والماشية والدابة
-- باب: غلاموں، مویشیوں اور سواری کے جانوروں کو وقف کرنے کے احکام میں
حدیث نمبر: 11919
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَامِرِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّ بِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَاكَ حَبِيسُ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَتْ: فَحُجَّ بِي عَلَى نَاضِحِكَ، قَالَ: ذَاكَ نَعْتَقِبُهُ أَنَا وَابْنُكِ، قَالَتْ: فَبِعْ ثَمَرَتَكَ، قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتِكِ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ زَوْجَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَسَلْهُ مَا يَعْدِلُ حِجَّةً مَعَكَ؟ فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، إِنَّهَا سَأَلَتْنِي أُحِجُّهَا، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قُلْتُ: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتَ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ"، ⦗٢٧٢⦘ قَالَتْ: فَأَحِجَّنِي عَلَى نَاضِحِكَ، فَقُلْتُ: ذَاكَ نَعْتَقِبُهُ أَنَا وَابْنُكِ، قَالَتْ: فَبِعْ ثَمَرَتَكَ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي حَدِيثِهِ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ قَالَ: فَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حِجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ:" أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ" قَالَ الْقَاضِي: هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ هِشَامٌ فِي إِسْنَادِهِ رَجُلًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا۔ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کراؤ۔ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں جس کے ساتھ میں حج کراؤں۔ عورت نے کہا: فلاں اونٹ پر حج کراؤ۔ اس نے کہا: وہ اللہ کے راستے کے لیے روکا ہوا ہے۔ عورت نے کہا: اپنے اونٹ پر کروا دو۔ اس نے کہا: میں اور تیرا بیٹا اس کے ساتھ کام وغیرہ کرتے ہیں۔ عورت نے کہا: اپنا پھل بیچ دو۔ اس نے کہا: وہ میرا اور تیرا کھانا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اس نے اپنے خاوند کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: سلام کہنا اور پوچھنا کہ آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کون سا عمل ہے؟ اس کا خاوند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میری بیوی نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے مجھ سے حج کے لیے سواری مانگی ہے۔ میں نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے، جس سے تجھے حج کراؤں۔ اس نے کہا: فلاں اونٹ پر حج کراؤ۔ میں نے کہا: وہ اللہ کے راستے میں روکا ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کو اس اونٹ پر حج کرا دے تو یہ بھی اللہ کا راستہ ہی ہے۔“ اس عورت نے کہا: مجھے اپنے اونٹ پر حج کروا۔ میں نے کہا: اس سے میں اور تیرا بیٹا کام وغیرہ کرتے ہیں۔ اس نے کہا: اپنا پھل بیچو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج پر اس کی حرص سن کر ہنسے، اس آدمی نے کہا: میری بیوی نے کہا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں کہ آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سلام کہنا اور اسے خبر دینا کہ رمضان میں عمرہ میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11919]
تخریج الحدیث: «بخاري 1782۔ مسلم 1256»
الحكم على الحديث: بخاري 1782
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11919 in Urdu