السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2511. -- باب: اتخاذ المسجد والسقايات وغيرها
-- باب: مسجد، پانی پلانے کی جگہیں (سبیلیں) اور ان جیسی دیگر اشیاء بنانے کے بیان میں
حدیث نمبر: 11934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءَ فَقَالَ:" اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ:" مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟" وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مَجْهُودُونَ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ؟ قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا.
حضرت ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرا، ٹھہر جا! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے“؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک میں فرمایا: ”کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا؟“ اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئرِ رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کر دیا؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی ہی چیزیں گنوائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11934]
پھر کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک میں فرمایا: ”کون خرچ کرے گا اور یہ خرچ قبول کیا جائے گا؟“ اور لوگ اس دن تنگی میں تھے، میں نے اپنے مال سے لشکر کا ایک تہائی خرچ برداشت کیا۔ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر کہا: میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس دن پانی خرید کر پیا جاتا تھا تو میں نے بئرِ رومہ خرید کر سب کے لیے غنی، فقراء اور مسافر کے لیے وقف کر دیا؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، کتنی ہی چیزیں گنوائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوقف/حدیث: 11934]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11934 in Urdu