السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2514. -- باب: يقبض للطفل أبوه
-- باب: بچے کی طرف سے اس کا باپ قبضہ کرے گا
حدیث نمبر: 11953
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْحَلُونَ أَوْلَادَهُمْ نِحْلَةً، فَإِذَا مَاتَ أَحَدُهُمْ قَالَ: مَالِي فِي يَدِي، وَإِذَا مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ نَحَلْتُهُ وَلَدِي، لَا نُحْلَةَ إِلَّا نُحْلَةً يَحُوزُهَا الْوَلَدُ دُونَ الْوَالِدِ، فَإِنْ مَاتَ وَرِثَهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی اولاد کو عطیہ دیتے ہیں، جب ان میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو کہتا ہے: میرا مال میرے پاس ہے۔ اگر خود فوت ہو جائے تو کہتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا تھا، کوئی عطیہ نہیں ہے مگر جس پر اس کی اولاد قبضہ کر لے، والد کے علاوہ۔ پس اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ (عطیہ) اس کی وراثت میں شامل ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11953]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11953 in Urdu