السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2520. جماع أبواب عطية الرجل ولده -- باب: السنة في التسوية بين الأولاد في العطية
باب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 11997
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِيَ وَقَالَتْ: أَشْهِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَهُ أُخْوَةٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو عطیہ دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ مقرر کر۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: فلاں کی بیٹی مجھ سے سوال کرتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو عطیہ دوں اور کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صحیح نہیں ہے اور نہ میں ظلم پر گواہ بنتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11997]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11997 in Urdu