السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2521. -- باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب
-- باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12002
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأنبأ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُجَالِدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا، قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا لَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا، وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ:" هَذَا جَوْرٌ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ:" هَذَا تَلْجِئَةٌ؛ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي" قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ:" أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي" وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ:" إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ، كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، اسماعیل بن سالم نے لوگوں کے درمیان سے کہا: غلام کا عطیہ دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو گواہ بنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو نعمان کی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ظلم ہے۔“ اور بعض نے کہا: یہ خاص عطیہ ہے جو دوسروں کو چھوڑ کر اسے دیا گیا ہے یا مجبوری کا عطیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ مغیرہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں وہ کہ نیکی اور کرم میں تیرے لیے برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ اور مجالد نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ ”تیرے اوپر ان کے لیے حق ہے کہ ان کے درمیان عدل کر، جس طرح ان پر تیرا حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12002]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12002 in Urdu