السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2521. -- باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب
-- باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12006
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عُمَرَ حَتَّى أَتَوْا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَاوَمُوهُ بِأَرْضٍ لَهُ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ أَرْضًا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" فَإِنَّ هَذِهِ الْأَرْضَ لِابْنِي وَاقِدٍ؛ فَإِنَّهُ مِسْكِينٌ" نَحَلَهُ إِيَّاهَا دُونَ وَلَدِهِ.
قاسم بن عبدالرحمن انصاری رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے، انہوں نے اس سے زمین کا سودا کیا اور اس سے خرید لیا، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے زمین خریدی ہے اور اس کو صدقہ کیا ہے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ زمین میرے بیٹے واقد کی ہے، وہ مسکین ہے، آپ نے اپنی دوسری اولاد کے علاوہ اس کو عطیہ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12006]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12006 in Urdu