السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2528. -- باب: إعطاء الغني من التطوع
-- باب: مالدار شخص کو نفلی صدقہ دینے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12042
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ ⦗٣٠٥⦘ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي أَهْلِ الشَّامِ مَرْضِيًّا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: عَلَامَ يُحِبُّكَ أَهْلُ الشَّامِ؟ قَالَ: أُغَازِيهِمْ وَأُوَاسِيهِمْ، قَالَ: فَعَرَضَ عَلَيْهِ عُمَرُ عَشَرَةَ آلَافٍ قَالَ: خُذْهَا وَاسْتَعِنْ بِهَا فِي غَزْوِكَ، قَالَ: إِنِّي عَنْهَا غَنِيٌّ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَيَّ مَالًا دُونَ الَّذِي عَرَضْتُ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي، فَقَالَ لِي:" إِذَا آتَاكَ اللهُ مَالًا لَمْ تَسْأَلْهُ وَلَمْ تَشْرَهْ إِلَيْهِ نَفْسُكَ فَاقْبَلْهُ؛ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللهُ إِلَيْكَ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ شام کا ایک آدمی تھا، اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تجھے اہل شام کس وجہ سے پسند کرتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”میں ان کے لیے غزوے میں جاتا ہوں اور ان سے دوستی «الْمُوَاسَاةِ» ”بھائی چارہ/غم خواری“ رکھتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار دیے اور کہا: ”انہیں پکڑ لو اور ان سے غزوے میں مدد طلب کرو۔“ اس نے کہا: ”میں ان سے بے پروا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس مال کے علاوہ مال دیا جو میں نے تجھے دیا ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جس طرح تم نے مجھ سے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تجھے مال دے جس کا نہ تو نے سوال کیا ہو اور نہ تیرے دل میں اس کا خیال آیا ہو تو اسے قبول کر لے، اس لیے کہ وہ رزق ہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 12042]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12042 in Urdu