السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2530. -- باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة
-- باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
حدیث نمبر: 12055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَ لِي زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ: اطْرَحْهُ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَقَضَيْنَا غَزَاتِنَا ثُمَّ حَجَجْتُ فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِي: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" عَرِّفْهَا حَوْلًا" فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَعُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ" فَعَرَّفْتُهَا ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:" احْفَظْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي أَقَالَ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ" عَرِّفْهَا" أَوْ قَالَ حَوْلًا. ⦗٣٠٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَوْلُ سَلَمَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا۔ میں نے اسے پکڑ لیا، مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا۔ پھر میں نے حج کیا، اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سو دینار کی تھیلی ملی۔ میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا۔ لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ایک سال اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ایک سال اور اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کر لو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لو۔“ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12055]
تخریج الحدیث: «بخاري 3437۔ مسلم 1723»
الحكم على الحديث: بخاري 3437
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12055 in Urdu