🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2534. -- باب: تعريف اللقطة ومعرفتها والإشهاد عليها
-- باب: لقطہ (گری پڑی چیز) کا اعلان کرنے، اس کی پہچان رکھنے اور اس پر گواہ بنانے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12085
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح قَالَ: وَثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا أَوِ اسْتَمْتِعْ بِهَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، فَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، تَأَكُلُ الشَّجَرَ، دَعْهَا حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الثَّوْرِيِّ دُونَ قَوْلِهِ:" وِعَاءَهَا"، وَقَالَ:" فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا".
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کر، پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لینا اور اس کو یاد رکھنا۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دینا ورنہ اپنے خرچ میں شامل کر لے اور اس سے فائدہ اٹھا۔“ اس نے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے“، اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ پانی پی سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12085]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12085 in Urdu