السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2535. -- باب: بيان مدة التعريف
-- باب: (لقطہ کے) اعلان کی مدت کے بیان میں
حدیث نمبر: Q12091
اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى تَعْرِيفِ اللُّقَطَةِ سَنَةً وَاحِدَةً، وَقَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُمَا، وَكَذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعَرِّفُهَا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ. وَرُوِّينَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ كَذَلِكَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا.
سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت اس بات پر متفق ہے کہ گری پڑی چیز (لقطہ) کی ایک سال تک تشہیر کی جائے، اور ان دونوں سے یہ روایت گزر چکی ہے، اور اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عقبہ بن سوید سے ان کے والد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بھی یہی مروی ہے)۔
رہی سلمہ بن کہیل کی حدیث جو سوید بن غفلہ سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، تو سلمہ بن کہیل سے اعمش، زید بن ابی انیسہ اور حماد کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کی تین سال تک تشہیر کرے گا۔
اور ہمیں شعبہ کے واسطے سے سلمہ سے اسی طرح روایت پہنچی ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد میں ان (سلمہ) سے مکہ میں ملا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں کہ تین سال (فرمایا تھا) یا ایک سال۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12091]
رہی سلمہ بن کہیل کی حدیث جو سوید بن غفلہ سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، تو سلمہ بن کہیل سے اعمش، زید بن ابی انیسہ اور حماد کی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کی تین سال تک تشہیر کرے گا۔
اور ہمیں شعبہ کے واسطے سے سلمہ سے اسی طرح روایت پہنچی ہے، شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد میں ان (سلمہ) سے مکہ میں ملا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں کہ تین سال (فرمایا تھا) یا ایک سال۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: Q12091]
حدیث نمبر: 12091
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ يَقُولُ: غَزَوْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ:" احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ سَلَمَةَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا، فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِأَبِي صَادِقٍ: تَعَالَ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ وَرَوَاهُ بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ. قَالَ شُعْبَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ: عَرِّفْهَا عَامًا وَاحِدًا..
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں ایک غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے انکار کر دیا، ہم نے غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سو دینار کی تھیلی ملی، میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اس کا اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور اعلان کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا چوتھی دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔“ سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12091]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12091 in Urdu