🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2535. -- باب: بيان مدة التعريف
-- باب: (لقطہ کے) اعلان کی مدت کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ⦗٣٢١⦘ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتِ: الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ، فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا، فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِه فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَذَهَبَ وَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ، مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" كُلُوا بِاسْمِ اللهِ"، فَأَكَلُوا، فَبَيْنَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلِيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ"، فَأَرْسَلَ بِهِ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: ظَاهِرُ الْحَدِيثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْبَابِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَنْفَقَهُ قَبْلَ التَّعْرِيفِ فِي الْوَقْتِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَظَاهِرُ تِلْكَ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ شَرَطَ التَّعْرِيفَ فِي الْوَقْتِ وَأَبَاحَ أَكْلَهُ قَبْلَ مُضِيِّ السَّنَةِ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي اشْتِرَاطِ التَّعْرِيفِ سَنَةً فِي جَوَازِ الْأَكْلِ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، فَهِيَ أَوْلَى، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَبَاحَ لَهُ إِنْفَاقَهُ قَبْلَ مُضِيِّ سَنَةٍ لِوُقُوعِ الِاضْطِرَارِ إِلَيْهِ، وَالْقِصَّةُ تَدُلُّ عَلَيْهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ مُضِيَّ سَنَةٍ فِي قَلِيلِ اللُّقَطَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٢٠٩٤) سہل بن سعید نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فاطمہ، حسن، حسین کے پاس گئے، وہ دونوں رو رہے تھے، پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: بھوک کی وجہ سے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے، بازار میں سے ایک دینار مل گیا، پھر فاطمہ کے پاس آئے، اسے خبر دی، فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے آٹا لے کر آؤ۔ وہ یہودی کے پاس آئے اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا: تو اس شخص کا داماد ہے جو گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اس نے کہا: دینار بھی لے جاؤ اور آٹا بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلے اور فاطمہ کے پاس آئے، اسے بتایا، فاطمہ نے کہا: فلاں قصاب کے پاس جاؤ اور درہم کا ہمارے لیے گوشت لے کر آؤ وہ گئے اور دینار ایک درہم گوشت کے بدلے گروی رکھا اور گوشت لے کر آئے، فاطمہ نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ پھر اپنے اباجان (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پاس آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کو بتاتا ہوں اگر آپ ہمارے لیے حلال خیال کریں گے تو ہم کھا لیں گے اور آپ بھی کھا لینا معاملہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھکھاؤ، میں نے کھایا، وہ ابھی اسی جگہ پر تھے کہ ایک غلام دینار گم ہونے کی صدا لگا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے بلایا گیا، اس سے سوال کیا گیا: اس نے کہا: بازار میں میرا دینار گرگیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: اے علی قصاب کے پاس جاؤ۔ اسے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے لیے کہا ہے کہ دینار واپس کر دو اور تیرا درہم مجھ پر ہے۔ میں نے دینار بھیج دیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دینار اسے دے دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کرلیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا مباح ہے۔ ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12094]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12094 in Urdu