السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2543. -- باب: التقاط المنبوذ وأنه لا يجوز تركه ضائعا
-- باب: پھینکے گئے لاوارث بچے کو اٹھانے اور اسے ضائع ہونے کے لیے نہ چھوڑنے کے وجوب کے بیان میں
حدیث نمبر: 12134
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سُنَيْنًا أَبَا جَمِيلَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ جُلُوسٌ، قَالَ: وَزَعَمَ أَبُو جَمِيلَةَ أَنَّهُ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ خَرَجَ مَعَهُ عَامَ الْفَتْحِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عَرِيفِيٌّ، فَلَمَّا رَآنِي عُمَرُ قَالَ:" عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا، مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِكَ هَذِهِ النَّسَمَةَ؟" قَالَ: قُلْتُ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ عَرِيفِيٌّ: إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ:" كَذَلِكَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهِ فَهُوَ حُرٌّ، وَلَكَ وَلَاؤُهُ، وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ".
ابو جمیلہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک بچہ راستے سے پایا، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور انہوں نے کہا: میرے قبیلے کے سردار نے بتایا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ایسا نہ ہو کہ یہ غارِ آفت کا غار ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے یہ جان اٹھانے پر کس نے ابھارا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو میں نے اٹھا لیا، میرے قبیلے کے سردار نے کہا: وہ نیک آدمی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا واقعی ایسا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو جا، وہ آزاد ہے اور تیرے لیے اس کی ولاء ہے اور ہم پر اس کا خرچ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12134]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12134 in Urdu