🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2546. -- باب: ذكر بعض من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة رضي الله عنهم
-- باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے ان بعض افراد کا ذکر جو اپنے والدین یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان ہو گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالُوا: صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ، وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَجَاءَ ⦗٣٣٧⦘ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَعَلَيْهِ قَبَاءُ دِيبَاجٍ مُكَفَّفَةٍ بِحَرِيرٍ فَقَالَ: صَبَأَ عُمَرُ، فَمَهْ أَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ، قَالَ: فَعَجِبْتُ مِنْ عِزِّهِ يَوْمَئِذٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ. فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْلَمَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ صَبِيٌّ، فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلَامِهِ، وَذَلِكَ لِمَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَاسْتَصْغَرَنِي وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ حَفْصَةَ وَعَبْدَ اللهِ أَسْلَمَا قَبْلَ أَبِيهِمَا وَعَبْدُ اللهِ كَانَ صَغِيرًا حِينَئِذٍ، فَإِنَّمَا تَمَّ إِسْلَامُهُ بِإِسْلَامِ أَبِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ مَعَ الْمُشْرِكِينَ وَأُسِرَ، حَتَّى فَدَى نَفْسَهُ وَأَسْلَمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ”عمر بے دین ہو گیا“ اور میں گھر کی چھت پر تھا، عاص بن وائل میرے پاس آئے جو ریشم کی قبا پہنے ہوئے تھے، کہنے لگے: ”عمر بے دین ہو گئے لیکن میں نے اسے پناہ دی ہوئی ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ بکھر گئے، میں نے بڑا تعجب کیا اس دن آپ کی عزت پر۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابھی بچے تھے، وہ بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مسلمان ہوئے اور یہ اس حدیث کی بنا پر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن مجھے پیش کیا اور میں اس وقت (14) چودہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا خیال کیا اور کہا گیا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوئے اور عبداللہ اس وقت چھوٹے تھے، ان کا اسلام باپ کے اسلام کی وجہ سے ہوا۔
اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بدر کے دن مشرکوں کے ساتھ نکلے اور قیدی بنا لیے گئے، یہاں تک کہ فدیہ دیا اور اسلام قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللقطة/حدیث: 12149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3865»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12149 in Urdu