السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2551. -- باب: من لا يرث من ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام (رشتہ داروں) میں سے جو وراثت کے حقدار نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12206
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ ⦗٣٥١⦘ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ كَانَ قَدِيمًا يُقَالُ لَهُ: ابْنُ مَرْسَا، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَالَ:" يَا يَرْفَأُ، هَلُمَّ الْكِتَابَ" لِكِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ فِي شَأْنِ الْعَمَّةِ يَسْأَلُ عَنْهَا وَيَسْتَخِيرُ فِيهَا، فَأَتَاهُ بِهِ يَرْفَأُ، فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَمَحَا ذَلِكَ الْكِتَابَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ:" لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ، لَوْ رَضِيَكَ اللهُ لَأَقَرَّكَ".
قریش کے ایک غلام جنہیں ابن مرسا کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب انہوں نے ظہر کی نماز پڑھائی تو کہا: اے یرفاء! وہ خط لاؤ جسے عمر نے پھوپھی کے بارے میں لکھا تھا، جس میں وہ اس کے متعلق سوال کرتے اور اس بارے میں استخارہ کرتے تھے۔ جب یرفاء وہ خط لایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دھات کا ایک پیالہ منگوایا، اس میں پانی تھا اور اس میں اس خط کو مٹا دیا، پھر کہا: اگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تو وہ تجھے قائم رکھتا، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتی تو وہ تجھے قائم رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12206]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12206 in Urdu