السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2552. -- باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
حدیث نمبر: 12215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتُ:" اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَقَدْ كَانَ أَبُو عَاصِمٍ يَرْفَعُهُ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، ثُمَّ شَكَّ فِيهِ؛ فَالرَّفْعُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12215]
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12215]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12215 in Urdu