السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2554. -- باب: لا يرث المملوك
-- باب: غلام وارث نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 12235
اسْتِدِلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمَّا كَانَ بَيِّنًا فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ لَا يَمْلِكُ مَالًا، وَأَنَّ مَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ فَإِنَّمَا يَمْلِكُهُ سَيِّدُهُ، وَلَمْ يَكُنِ السَّيِّدُ بِأَبِي الْمَيِّتِ، وَلَا وَارِثٍ سُمِّيَتْ لَهُ فَرِيضَةٌ، فَكُنَّا لَوْ أَعْطَيْنَا ⦗٣٦٠⦘ الْعَبْدَ بِأَنَّهُ أَبٌ إِنَّمَا أَعْطَيْنَا السَّيِّدَ الَّذِي لَا فَرِيضَةَ لَهُ، فَوَرَّثْنَا غَيْرَ مَنْ وَرَّثَ اللهُ، فَلَمْ نُوَرِّثْ عَبْدًا لِمَا وَصَفْتُ، وَلَا أَحَدًا لَمْ يَجْتَمِعْ فِيهِ الْحُرِّيَّةُ وَالْإِسْلَامُ وَالْبَرَاءَةُ مِنَ الْقَتْلِ قَالَ الشَّيْخُ: وَبِهِ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا کوئی شرط لگائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ غلام مال کا مالک نہیں ہوتا، جس چیز کا مالک غلام ہے حقیقت میں اس کا مالک سردار ہے۔ حالانکہ سردار میت کا باپ نہیں ہوتا اور نہ ایسا وارث ہے کہ اس کا حصہ مقرر ہو، ہم اگر غلام کو دیں کیونکہ وہ باپ ہے تو ہم سردار کو دیں گے جس کا مقرر حصہ نہیں ہے، ہم نے ایسے شخص کو وارث بنا دیا جسے اللہ نے وارث نہیں بنایا۔ اس وجہ سے ہم غلام کو وارث نہیں بنائیں گے، اور نہ کسی ایسے شخص کو جس میں آزادی اور اسلام جمع نہ ہوں اور نہ اس شخص کو جو قتل سے بری نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12235]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ غلام مال کا مالک نہیں ہوتا، جس چیز کا مالک غلام ہے حقیقت میں اس کا مالک سردار ہے۔ حالانکہ سردار میت کا باپ نہیں ہوتا اور نہ ایسا وارث ہے کہ اس کا حصہ مقرر ہو، ہم اگر غلام کو دیں کیونکہ وہ باپ ہے تو ہم سردار کو دیں گے جس کا مقرر حصہ نہیں ہے، ہم نے ایسے شخص کو وارث بنا دیا جسے اللہ نے وارث نہیں بنایا۔ اس وجہ سے ہم غلام کو وارث نہیں بنائیں گے، اور نہ کسی ایسے شخص کو جس میں آزادی اور اسلام جمع نہ ہوں اور نہ اس شخص کو جو قتل سے بری نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12235]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اللام للشافعي 4/ 77»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12235 in Urdu