🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2555. -- باب: لا يرث القاتل
-- باب: قاتل وارث نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُدْعَى قَتَادَةَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى عَنْكَ حَتَّى تَرْعَى عَلَيَّ أُمُّ وَلَدِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْعَى عَلَيْهَا، فَأَبَى ابْنَاهَا ذَلِكَ، فَتَنَاوَلَ قَتَادَةُ أَحَدَ ابْنَيْهِ بِالسَّيْفِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَعْدِدْ لِي بِقُدَيْدٍ، وَهِيَ أَرْضُ بَنِي مُدْلِجٍ، عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ ثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ" هَذِهِ مَرَاسِيلُ جَيِّدَةٌ يَقْوَى بَعْضُهَا بِبَعْضٍ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ أَوْجُهٍ.
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی مدلج کا ایک آدمی جس کا نام قتادہ تھا، اس کی ام ولد تھی، اس سے دو بیٹے تھے، قتادہ نے عرب کی ایک عورت سے شادی کی۔ اس عرب عورت نے کہا: میں تجھ سے اس صورت میں خوش ہوں کہ تو اپنی ام ولد سے کہہ کہ وہ میری خدمت کیا کرے۔ قتادہ نے ام ولد کو حکم دیا کہ اس کی خدمت کیا کر، لیکن اس کے بیٹوں نے انکار کر دیا، قتادہ تلوار لے کر ایک بیٹے کے درپے ہوئے وہ مر گیا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ سارا ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میرے لیے قدید میں، جو بنی مدلج کی زمین ہے، ایک سو بیس اونٹ تیار رکھو، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو تیس اونٹ جذعہ، تیس حقہ اور چالیس حاملہ پکڑے پھر کہا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔“
یہ عمدہ مرسل روایات ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، اور یہ کئی طرق سے موصولاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12239]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12239 in Urdu