السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2557. -- باب: ميراث من عمي موته
-- باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12258
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ،" أَنَّهُ لَمْ يَتَوَارَثْ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ وَيَوْمَ صِفِّينَ وَيَوْمَ الْحَرَّةِ، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ قُدَيْدٍ فَلَمْ يَتَوَارَثْ أَحَدٌ مِمَّنْ قُتِلَ مِنْهُمْ مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا، إِلَّا مَنْ عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ قَبْلَ صَاحِبِهِ" قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، وَلَا شَكَّ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے علماء سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جمل، صفین اور حرہ کے دن مارے جانے والوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا، پھر قدید کے دن بھی کسی کو وارث نہ بنایا گیا جو قتل ہوا اس کا مگر یہ جان کر کہ کون پہلے فوت ہوا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس معاملہ میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اور نہ ہمارے شہر کے اہلِ علم میں سے کسی کو اس میں شک ہے، اور ہمارے امام احمد رحمہ اللہ ایاس بن عبد المزنی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو بعض کا وارث بنایا جائے گا، لیکن جماعت کا قول زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12258]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس معاملہ میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اور نہ ہمارے شہر کے اہلِ علم میں سے کسی کو اس میں شک ہے، اور ہمارے امام احمد رحمہ اللہ ایاس بن عبد المزنی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو بعض کا وارث بنایا جائے گا، لیکن جماعت کا قول زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12258]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12258 in Urdu