السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2559. -- باب: حجب الإخوة والأخوات من قبل الأم بالأب والجد والولد وولد الابن
-- باب: باپ، دادا، اولاد اور پوتے کی وجہ سے ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے محروم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12263
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ:" إِنِّي سَأَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، أُرَاهُ مَا خَلَا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ" فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا قَالَهُ أَبُو بَكْرٍ".
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں اپنی رائے دوں گا، اگر وہ صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے۔ کلالہ میرے نزدیک وہ ہے جس کی اولاد اور والدین نہ ہوں، پس جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کہی ہوئی بات کا انکار کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12263]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12263 in Urdu