السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2564. -- باب: فرض الزوج والزوجة
-- باب: شوہر اور بیوی کے مقررہ حصوں کا بیان
حدیث نمبر: 12298
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ" فِي السُّدُسِ الَّذِي حَجَبَهُ الْإِخْوَةُ أُمَّهُ، هُوَ لِلْإِخْوَةِ وَلَا يَكُونُ لِلْأَبِ، إِنَّمَا نُقِصَتْهُ الْأُمُّ لِيَكُونَ لِلْإِخْوَةِ" قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمُ السُّدُسَ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي أُعْطِيَ إِخْوَتُهُ السُّدُسَ، فَقَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةً لَهُمْ.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سدس کے بارے میں کہا کہ جس سے ماں کو بھائی روک دیتے ہیں وہ بھائیوں کے لیے ہے نہ کہ باپ کے لیے ہے۔ ماں کے حصہ سے کمی کی جاتی ہے اور وہ بھائیوں کے لیے ہوتا ہے۔
ابن طاؤس فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سدس دیا ہے، میں اس آدمی کی اولاد میں سے کسی کو ملا جس کے بھائی کو سدس دیا گیا، اس نے کہا: ہمیں پتہ چلا تھا کہ ان کے لیے وصیت تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12298]
ابن طاؤس فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سدس دیا ہے، میں اس آدمی کی اولاد میں سے کسی کو ملا جس کے بھائی کو سدس دیا گیا، اس نے کہا: ہمیں پتہ چلا تھا کہ ان کے لیے وصیت تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12298]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12298 in Urdu