السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2583. -- باب: الميراث بالولاء
-- باب: ولاء (غلام آزاد کرنے کے تعلق) کی بنیاد پر وراثت ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12382
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ، فَسَاوَمَ بِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ قَالَ:" أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ"، قَالَ: مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ؟ قَالَ:" إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ، وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ"، قَالَ: مَا تَرَى فِي مَالِهِ؟ قَالَ:" إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا فَلَكَ مَالُهُ" هَكَذَا جَاءَ مُرْسَلًا.
سیدنا حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی طرف گئے، ایک آدمی کو بکتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سودا کیا۔ پھر اس کو چھوڑ دیا۔ اسے ایک آدمی نے خریدا اور آزاد کر دیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور کہا: میں نے اسے خریدا تھا، پھر آزاد کر دیا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا بھائی ہے اور تیرا مولا ہے“، اس نے پوچھا: اس کی صحبت (ساتھ رکھنے) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ تیرا شکر کرے تو اس کے لیے بہتر ہے اور تیرے لیے برا ہے اور اگر وہ تیرا انکار کرے تو تیرے لیے بہتر ہے اور اس کے لیے برا ہے“۔ اس نے اس کے مال کے بارے میں پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ فوت ہو جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو وہ مال تیرا ہے“۔
یہ روایت اسی طرح مرسل آئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12382]
یہ روایت اسی طرح مرسل آئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12382]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12382 in Urdu