السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
274. -- باب: الفرق بين القليل الذي ينجس والكثير الذي لا ينجس ما لم يتغير
-- باب: اس تھوڑے پانی جو نجس ہو جاتا ہے اور اس زیادہ پانی جو نجس نہیں ہوتا جب تک کہ تبدیل نہ ہو، کے درمیان فرق کا بیان
حدیث نمبر: 1244
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بُسْتَانًا فِيهِ مَقَرُّ مَاءٍ فِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقُلْتُ: أَيَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ جَلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" كَذَا قَالَا: أَوْ ثَلَاثٍ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَكَاملُ بْنُ طَلْحَةَ، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الَّذِينَ لَمْ يَشُكُّوا أَوْلَى.
عاصم بن منذر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ باغ میں داخل ہوا، اس میں پانی کا ایک حوض تھا جس میں مردہ اونٹ کا چمڑا پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے اس سے وضو کیا، میں نے کہا: کیا آپ اس سے وضو کریں گے؟ اس میں مردہ اونٹ کا چمڑا ہے؟ انہوں نے اپنے والد سے مجھ کو حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ ”جب پانی دو یا تین مٹکوں کی مقدار کے برابر ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
جن راویوں نے شک کے بغیر بیان کیا ہے ان کی روایت زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1244]
جن راویوں نے شک کے بغیر بیان کیا ہے ان کی روایت زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/227»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1244 in Urdu