🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2595. -- باب: ميراث المرتد
-- باب: مرتد کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12463
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ عَبِيدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا حِينَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ يُقَالُ لَهُ الْمَسْتَوْرِدُ، كَانَ مُسْلِمًا فَتَنَصَّرَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا ذَاكَ؟" فَقَالَ: وَجَدْتُ دِينَهُمْ خَيْرًا مِنْ دِينِكُمْ، قَالَ:" وَمَا دِينُكَ؟" قَالَ: دِينُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَأَنَا عَلَى دِينِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَكِنْ مَا تَقُولُ فِي عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؟" فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَتْ عَلَيَّ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَزَعَمَ الْقَوْمُ أَنَّهُ قَالَ أَنَّهُ رَبُّهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اقْتُلُوهُ، فَتَوَطَّأَهُ الْقَوْمُ حَتَّى مَاتَ"، قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ الْحِيرَةِ فَأَعْطَوا يَعْنِي بِجِيفَتِهِ اثْنَى عَشَرَ أَلْفًا، فَأَبَى عَلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، وَلَمْ يَعْرِضْ لِمَالِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا الشَّعْبِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دُونَ ذِكْرِ الْمَالِ. ثُمَّ قَدْ جَعَلَهُ الشَّافِعِيُّ لِخَصْمِهِ ثَابِتًا، وَاعْتَذَرَ فِي تَرْكِهِ قَوْلَهُ بِظَاهِرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ"، كَمَا تَرَكُوا بِهِ قَوْلَ مُعَاذٍ وَمُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِمَا فِي تَوْرِيثِ الْمُسْلِمِ مِنَ الْيَهُودِيِّ.
ابن عبید بن ابرص فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، جب بنی عجل کے ایک آدمی مستورد کو لایا گیا، وہ مسلمان تھا، پھر عیسائی ہو گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میں نے ان کا دین تمہارے دین سے بہتر پایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرا دین کیا ہے، اس نے کہا: عیسیٰ (علیہ السلام) والا دین، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر ہوں، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتا ہے، اس نے ایسا کلمہ کہا جو مجھ سے مخفی رہا، میں اسے سمجھ نہ سکا، لوگوں نے خیال کیا کہ اس نے کہا ہے کہ وہ اس کے رب ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے قتل کر دو۔ لوگوں نے اسے روندنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، پھر اہل حیرۃ کے لوگ آئے انہوں نے لاش کے بدلے بارہ ہزار دیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ اس کی لاش جلا دو اور انہوں نے اس کے مال سے کوئی تعرض نہ کیا۔
اسے شعبی اور عبدالملک بن عمیر نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس میں مال کا ذکر نہیں ہے۔ پھر امام شافعی (رحمہ اللہ) نے اسے اپنے مخالف کے لیے ثابت مان کر اس کے قول کو چھوڑنے کا عذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ظاہر سے بیان کیا کہ ”مسلمان کافر کا وارث نہ بنے اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے“ جیسا کہ انہوں نے اسی کی بنا پر معاذ اور معاویہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول کہ مسلمان یہودی کا وارث بنے گا، چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12463]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12463 in Urdu