السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2598. -- باب: ميراث ولد الملاعنة
-- باب: لعان کرنے والی عورت کے بچے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12489
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهَا مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ"، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے کیا اسے قتل کر دے پھر آپ اسے (قصاص میں) قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لعان کے بارے میں نازل کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ آچکا ہے۔“ راوی نے کہا: ان دونوں نے لعان کیا اور میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اسے روک لوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہے،“ پھر اس نے اسے جدا کر دیا۔ اس کے بعد یہی سنت جاری کر دی گئی کہ دو لعان کرنے والوں میں جدائی کرا دی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی لیکن اس نے اس حمل سے انکار کر دیا۔ اس کا بیٹا ماں کے نام سے پکارا جانے لگا۔ پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ بیٹا ماں کا وارث ہو گا اور وہ اللہ کے فرض کردہ حصہ میں اس کی وارث ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12489]
تخریج الحدیث: «بخاري 4746»
الحكم على الحديث: بخاري 4746
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12489 in Urdu