السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2607. -- باب: من استحب ترك الوصية إذا لم يترك شيئا كثيرا استبقاء على ورثته
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے ورثاء کی خاطر مال بچانے کے لیے وصیت ترک کرنے کو مستحب قرار دیا جب وہ زیادہ مال نہ چھوڑ رہا ہو
حدیث نمبر: 12579
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لَهَا رَجُلٌ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، قَالَتْ:" كَمْ مَالُكَ؟" قَالَ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، قَالَتْ:" كَمْ عِيَالُكَ؟" قَالَ: أَرْبَعَةٌ، فَقَالَتْ:" قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} [البقرة: ١٨٠] ، وَإِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يَسِيرٌ، فَاتْرُكْهُ لِعِيَالِكَ؛ فَهُوَ أَفْضَلُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کو کہا: میں وصیت کا ارادہ رکھتا ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کتنے مال کی؟ اس نے کہا: تین ہزار کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تیرا خاندان کتنا ہے؟ اس نے کہا: چار افراد ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 180] یہ تو تھوڑا سا مال ہے۔ اسے اپنے اہل کے لیے چھوڑ دے یہی افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12579]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 2/ 567»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12579 in Urdu