السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2609. -- باب: الحزم لمن كان له شيء يريد أن يوصي فيه أن لا يبيت ليلتين أو ثلاث ليال إلا ووصيته مكتوبة عنده
-- باب: جس شخص کے پاس کوئی چیز ہو جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ دو یا تین راتیں بھی اس حال میں نہ گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 12589
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ لَيْسَتْ وَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةً عِنْدَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس مال ہو اور اس میں سے وصیت کرنا چاہتا ہو کہ بغیر وصیت لکھے ایک رات یا دو راتیں گزارے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12589]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12589 in Urdu