السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. -- باب التطهر في أواني المشركين إذا لم يعلم نجاسة
-- باب: مشرکین کے برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جب ان کی نجاست کا علم نہ ہو
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُ عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحْسَبُهُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ أَوْ غَيْرَهُمَا قَالَ:" إِنَّكُمَا سَتَجِدَانِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا امْرَأَةً مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ فَأْتِيَانِي بِهَا" فَأَتَيَا الْمَرْأَةَ فَوَجَدَاهَا قَدْ رَكِبَتْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى الْبَعِيرِ فَقَالَا لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللهِ، هَذَا الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَجَاءَا بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ مِنْ مَزَادَتَيْهَا، ثُمَّ قَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَاءَ فِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِعَزْلَاءِ الْمَزَادَتَيْنِ فَفُتِحَتْ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَمَلَئُوا آنِيَتَهِمْ وَأَسْقِيَتَهُمْ، فَلَمْ يَدَعُوا يَوْمَئِذٍ إِنَاءً وَلَا سِقَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَانَ يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَنَّهَا لَمْ تَزْدَدْ إِلَّا امْتِلَاءً. قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهَا فَبُسِطَتْ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَجَاءُوا مِنْ زَادِهِمْ حَتَّى مَلَئُوا لَهَا ثَوْبَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" اذْهَبِي، فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ سَقَانَا". قَالَ: فَجَاءَتْ أَهْلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُمْ ⦗٥٢⦘ فَقَالَتْ: جِئْتُكُمْ مِنْ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللهِ حَقًّا قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ ذَلِكَ الْحِوَاءِ حَتَّى أَسْلَمَوا كُلُّهُمْ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، وَفِيهِ: فَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ". وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں گئے، انھیں سخت پیاس لگ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی آئے۔ میرا گمان ہے کہ وہ علی اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے یا شاید ان کے علاوہ کوئی اور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں فلاں جگہ پر ایک عورت کو پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہوگا، اس پر دو مٹکے ہوں گے، تم دونوں اس کو میرے پاس لاؤ۔“ وہ دونوں عورت کے پاس آئے۔ انھوں نے اس کو دیکھا وہ عورت اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے اس سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی: کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ یہی بے دین! (معاذ اللہ) انھوں نے کہا: وہی ہیں جو تم مراد لے رہی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، وہ دونوں اس کو لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مٹکوں سے پانی نکالو اور اس پر کچھ پڑھا۔ پھر پانی کو اس کے مٹکوں میں واپس لوٹا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مشکیزوں کا حکم دیا، ان کو کھولا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، انھوں نے اپنے برتنوں اور مشکیزوں کو بھر لیا اور لوگوں نے اس دن کوئی برتن اور مشکیزہ خالی نہیں چھوڑا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال تھا کہ زیادہ بھر گیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو پھیلانے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنا زادِ راہ لے کر آئیں۔ انھوں نے زادِ راہ سے کپڑے کو بھر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”جاؤ، ہم نے آپ کے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلا دیا ہے۔“
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
اور اس (روایت) میں ہے کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو جنابت کی حالت میں تھا، پانی کا ایک برتن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
اور اس (روایت) میں ہے کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو جنابت کی حالت میں تھا، پانی کا ایک برتن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 126 in Urdu