السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2617. -- باب: الرجل يقول: ثلث مالي إلى فلان يضعه حيث أراه الله، وما يختار للموصى إليه أن يعطيه أهل الحاجة من قرابة الميت حتى يغنيهم ثم رضعاءه ثم جيرانه
-- باب: اس شخص کا بیان جو کہے: میرے مال کا ایک تہائی فلاں شخص کے لیے ہے وہ اسے وہاں خرچ کرے جہاں اللہ اسے سجھائے، اور وصی (جسے وصیت کی گئی ہو) کے لیے یہ پسندیدہ ہے کہ وہ میت کے حاجت مند رشتہ داروں کو دے یہاں تک کہ انہیں غنی کر دے، پھر دودھ شریک رشتہ داروں کو، پھر پڑوسیوں کو دے
حدیث نمبر: 12606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢] قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢] ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلِيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَائِحٌ"، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ،" وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ" فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ.
(١٢٦٠٦) اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہ مدینہ کے انصاریوں میں زیادہ مالدار تھے، ان کا پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } اور بیشک میرے پسندیدہ اموال میں سے بیرحاء ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ کیا ہے اور میں اس کی نیکی اور اس کا ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں۔ اللہ سے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اسے رکھ لیں جہاں آپ کو اللہ حکم دے وقف کردینا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: شاباش بڑا نفع بخش مال ہے اور جو تو نے کہا میں نے اسے سن لیا اور میرے خیال میں اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کر دو۔ ابو طلحہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں ایسا ہی کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! پس ابو طلحہ نے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں میں تقسیم کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2769»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12606 in Urdu