السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2636. -- باب: والي اليتيم يأكل من ماله إذا كان فقيرا مكان قيامه عليه بالمعروف
-- باب: یتیم کا سرپرست اگر محتاج ہو تو اس کی دیکھ بھال کے عوض دستور کے مطابق اس کے مال میں سے کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 12669
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ: فَقَالَ:" كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ، وَلَا مُبَادِرٍ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں فقیر ہوں اور میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے اور میرے پاس ایک یتیم ہے (میں اس کا والی ہوں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے بغیر اسراف کے کھا لے اور نہ جلدی جلدی کرنا اور نہ جمع کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12669]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2/186»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12669 in Urdu