السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
277. -- باب: ما جاء في نزح زمزم
-- باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، فِي احْتِجَاجِ مَنِ احْتَجَّ بِالْأَثَرِ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: قُلْتُ: فَيُخَالِفُ مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِ غَيْرِهِ قَالَ: لَا، قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتَ وَخَالَفْتَ مَعَ ذَلِكَ عَلِيًّا وَابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمْتَ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي الْبِئْرِ تُنْزَحُ مِنْهَا خَمْسَةُ أَوْ سَبْعَةُ أَدَلَاءٍ وَزَعَمَتْ أَنَّهَا لَا تَطْهُرُ إِلَّا بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثِينَ وَزَعَمَتْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَزَحَ زَمْزَمَ مِنْ زِنْجِيٍّ وَقَعَ فِيهَا وَأَنْتَ تَقُولُ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ أَرْبَعُونَ أَوْ سِتُّونَ دَلْوًا وَهَذَا عَنْ عَلِيٍّ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرُ ثَابِتٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ سے اس شخص کی دلیل کے متعلق منقول ہے جو علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر سے دلیل لیتا ہے: میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی بات کو کسی دوسرے کے قول کی خاطر چھوڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: آپ نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کے ساتھ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مخالفت بھی کی ہے۔ آپ نے گمان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کنویں میں چوہا گر جائے تو اس سے سات یا پانچ ڈول کھینچے جائیں گے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک نہیں ہو گا مگر بیس یا تیس (ڈول کھینچنے) سے اور آپ نے گمان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زنجی سے جو اس میں گر گیا تھا زمزم کا پانی نکالا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چالیس یا ساٹھ ڈول کافی ہیں۔ یہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1271 in Urdu