السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2648. -- باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه
-- باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث نمبر: 12728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْأَزْدِيُّ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ حَدَّثَهُ قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ، فَقَالَ: فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ لِي: يَا مَالُ، إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي، قَالَ: خُذْهُ يَا مَالُ، قَالَ: فَجَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ؟ قَالَ عُمَرُ: نَعَمْ، فَائْذَنْ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمَا، قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ، قَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ: فخيل إِلِيَّ أَنَّهُمْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نُورَثُ، وَإِنَّ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نُورَثُ، وَإِنَّ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ خَصَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يَخُصَّ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ، قَالَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الحشر: ٧] ، مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا، قَالَ: فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمُ النَّضِيرَ، فَوَاللهِ مَا ⦗٤٨٦⦘ اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ، وَلَا أَخَذَهَا دُونَكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ. ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ: أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا، ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ، وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا، فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهِ بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ، فَقَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ. ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا، وَلَا وَاللهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلِيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيِّ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، میں دن کے وقت ان کے پاس آیا، میں نے ان کو ایک تخت پر بیٹھے ہوئے پایا بغیر بچھونے کے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اے مالک! کچھ لوگ تمہاری قوم والوں کے میرے پاس آئے تھے اور میں نے ان کو کچھ دینے کا حکم دیا ہے، پس تم ان میں تقسیم کر دو،“ میں نے عرض کیا: ”کاش آپ اس کام کے لیے کسی اور کو کہتے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم لے لو۔“ اسی دوران یرفاء غلام آیا اور کہا: ”عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم دروازے پر ہیں اور اجازت چاہتے ہیں، اگر اجازت ہو تو ان کو آنے دیں؟“ آپ نے اجازت دی، جب وہ داخل ہوئے تو یرفاء پھر آیا اور کہا: ”عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی آئے ہیں،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! میرے اور اس جھوٹے، گنہگار، دھوکے باز، خائن کے درمیان فیصلہ کریں،“ لوگوں میں سے بھی بعض نے کہا: ”ہاں امیر المؤمنین ان میں فیصلہ کریں۔“ سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیال آیا کہ انھوں نے ہی عثمان وغیرہ کو پہلے بھیجا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“؟“ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص کیا تھا اور کسی کو خاص نہ کیا تھا، فرمایا: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى﴾ [سورة الحشر: 7] “ میں نہیں جانتا کہ اس سے پہلے آیت پڑھی تھی یا نہیں، ”پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے مال کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیا اور تم پر کسی کو ترجیح نہ دی اور نہ تمہارے علاوہ کسی اور نے لیا تھا، اور جو مال بچ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے لیے سال بھر کا خرچ لیتے تھے اور جو بچتا وہ باقی مالوں کے برابر ہوتا تھا،“ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کو کہا: ”میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم یہ جانتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو قسم دے کر پوچھا جیسے قوم کو قسم دی تھی: ”کیا تم دونوں یہ جانتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں، پس تم دونوں آئے تم نے اپنے بھائی کے بیٹے سے میراث طلب کی اور بیوی کی میراث اس کے باپ سے طلب کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے،“ پس تم دونوں نے اسے جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز، خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک، حق کے تابع تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کا ولی ہوں، پس تم دونوں نے مجھے جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز، خائن سمجھا اور اللہ جانتا ہے میں سچا، نیک، اچھا اور حق کے تابع ہوں، پس میں اس کا والی تھا، پھر تم دونوں اکٹھے میرے پاس آئے تمہارا معاملہ ایک ہی تھا، تم دونوں نے کہا: وہ ہمیں دے دو، میں نے کہا: میں اس شرط پر دوں گا کہ تم پر اللہ کا وعدہ ہے کہ اس میں کام کرو گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، پس تم نے اسے لے لیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا ایسے ہی ہے؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں،“ پھر دونوں میرے پاس آئے ہو تاکہ میں تمہارے لیے فیصلہ کر دوں اور اللہ کی قسم! میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے۔ اگر تم دونوں عاجز آ گئے ہو تو میری طرف لوٹا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 12724»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12728 in Urdu