🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى، عَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعْفٌ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ؛ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ، ثُمَّ مَالَ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ أَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى ⦗٥٠١⦘ نَاقَةٍ وَرْقَاءَ مِنْ ظَهْرِ الْقَوْمِ، فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا صَارَتْ رُكْبَتُهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُهُ، فَنَدَرَ رَأْسُهُ، فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ، وَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟" قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَهُ السَّلَبُ أَجْمَعُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ..
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ہوازن کیا، ہم ناشتہ کر رہے تھے، ہم میں کمزور اور پیدل چلنے والے بھی تھے۔ ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر آیا۔ اس نے ایک تسمہ اونٹ کی کمر سے کھینچا۔ پھر اس سے اسے باندھ دیا۔ پھر قوم میں آیا، جب ان کی کمزوری کو دیکھا تو اونٹ کا تسمہ کھولا۔ پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو کر بھاگ گیا، قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے ایک خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ میں بھی دوڑتا ہوا نکلا، پس میں نے اسے پا لیا جبکہ (اسلمی کی) اونٹنی کا سر اس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس تھا، پھر میں آگے بڑھا۔ میں نے اس کے اونٹ کی لگام کو پکڑا اور اسے بٹھایا، جب اس کے گھٹنے زمین پر لگ گئے تو میں نے اپنی تلوار نکالی، اسے ماری اور اس کا سر علیحدہ کر دیا، پھر میں اس کی اونٹنی اور جو اس پر تھا لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کس نے قتل کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہما نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے سارا سامان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12765 in Urdu