🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَبِيعَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَقُولُ: إِنَّهُ طَلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ وَهُوَ يَشْتَدُّ، وَفِي يَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ التُّرْسُ فِيهِ مَاءٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ وَجْهَهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ حَاطِبٌ: مَنْ فَعَلَ بِكَ هَذَا؟ قَالَ:" عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، هَشَّمَ وَجْهِيَ، وَدَقَّ رَبَاعِيَتِي بِحَجَرٍ رَمَانِي"، قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ صَائِحًا يَصِيحُ عَلَى الْجَبَلِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَأَتَيْتُ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ رُوحِي، قُلْتُ: أَيْنَ تَوَجَّهَ عُتْبَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَى حَيْثُ تَوَجَّهَ، فَمَضَيْتُ حَتَّى ظَفَرْتُ بِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَطَرَحْتُ رَأْسَهُ فَهَبَطَتْ، فَأَخَذْتُ رَأْسَهُ وَسَلَبَهُ وَفَرَسَهُ وَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ ذَلِكَ إِلِيَّ وَدَعَا لِي فَقَالَ:" رَضِيَ اللهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللهُ عَنْكَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے، حاطب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر مارا اور پتھر کے ساتھ میرے دانت نکال دیے۔“ میں نے عرض کیا: میں نے پہاڑ پر یہ آواز سنی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیے گئے ہیں اور میں اس حال میں آیا گویا کہ میری روح نکل رہی ہے، میں نے پوچھا: عتبہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ”فلاں طرف ہے۔“ میں اس کی طرف گیا یہاں تک کہ میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اسے تلوار ماری، پس میں نے اس کا سر اتار دیا۔ پھر میں نے اس کا سر اور اس کا سامان اور اس کا گھوڑا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے دے دیا اور میرے لیے دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ» ”اللہ تجھ سے راضی ہو، اللہ تجھ سے راضی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12770]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12770 in Urdu