السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2655. -- باب: النفل بعد الخمس
-- باب: خمس نکالنے کے بعد نفل (زائد عطیہ) دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12809
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْحِنَّائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ قَالَ: وَجَدْتُ جَرَّةً خَضْرَاءَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ النَّاسِ، وَأَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَرَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ" لَأَعْطَيْتُكَ، وَأَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ، فَأَبَيْتُ وَقُلْتُ: مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْكَ..
ابوجویریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت میں دشمن کی زمین میں مجھے ایک سبز مٹکا ملا اور ہم پر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے قبیلہ بنی سلیم کا ایک آدمی تھا، جسے معن بن یزید رضی اللہ عنہما کہا جاتا تھا۔ میں وہ مٹکا لے کر ان کے پاس آیا، انہوں نے لوگوں میں اسے تقسیم کر دیا اور مجھے بھی ان کی مثل دیا، پھر انہوں نے کہا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا یا کرتے نہ دیکھا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ» ”نفل (زائد انعام) خمس کے بعد ہی ہے“ تو میں تجھے (مزید) دے دیتا“ اور وہ اپنا حصہ مجھے دینے لگے۔ میں نے انکار کر دیا اور میں نے کہا: ”میں آپ سے زیادہ حق دار نہیں ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 3/ 470»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12809 in Urdu