السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2660. -- باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب
-- باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٥١٩⦘ سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ فِيهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَأَجَبْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَقَالَ ثَانِيَةً: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ"، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّغَانِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی ساتھ تھے، ایک دن ایک خاردار درختوں والی وادی میں قیلولہ کا وقت آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور لوگ بھی درختوں کے سایہ میں پھیل گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سو گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے جواب دیا (گئے) تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار مجھ پر ہی سونت ڈالی ہے، میں اٹھا ہوں تو وہ اس کے ہاتھ میں ہے بغیر میان کے۔ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! اس نے دوسری دفعہ کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔“ پس اس نے تلوار میان میں رکھ دی اور بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بدلہ نہ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12834]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 843»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12834 in Urdu