🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2662. -- باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بالمال
-- باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12844
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَوْمُكَ وَأَصْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَتِبْهُمْ؛ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ، قَدِّمْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَأَضْرِمِ الْوَادِي عَلَيْهِمْ نَارًا، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ، فَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ. ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَإِنَّ اللهَ لَيُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ {وَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨] ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَى قَالَ {رَبَّنَا اطْمِسَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوَا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} [يونس: ٨٨] ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} [نوح: ٢٦] ، أَنْتُمْ عَالَةٌ؛ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ"، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ مِنِّي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، حَتَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى} [الأنفال: ٦٧] ، إِلَى آخِرِ الثَّلَاثِ الْآيَاتِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی قوم اور آپ کی اصل ہیں۔ ان کو باقی رکھیں اور ان سے توبہ کروائیں۔ شاید اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کو نکالا؛ ان کو پیش کریں اور ان کی گردنیں اتاریں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ زیادہ لکڑیوں والی وادی میں ہیں، آپ وادی میں آگ جلائیں اور ان کو اس میں ڈال دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، کوئی جواب نہ دیا، پھر کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں اور بعض نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں اور بعض نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر نکلے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بعض آدمیوں کے دلوں کو اس بارے میں نرم رکھا ہے حتیٰ کہ دودھ سے بھی نرم اور بعض کے دلوں کو سخت رکھا ہے، حتیٰ کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت؛ اور اے ابوبکر! تیری مثال ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا تھا: ﴿مَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة إبراهيم: 36] اور اے ابوبکر! تیری مثال عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] اور اے عمر! تیری مثال موسیٰ علیہ السلام کی ہے، انہوں نے کہا: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ﴾ [سورة يونس: 88] اور اے عمر! تیری مثال نوح علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [سورة نوح: 26] تم محتاج ہو، پس کسی کو نہ چھوڑنا مگر فدیے سے یا قتل کر دینا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مگر سہیل بن بیضاء! میں نے سنا ہے وہ اسلام کا تذکرہ کرتا ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں نے اس دن سے زیادہ خوف والا دن اپنے اوپر نہ دیکھا تھا، جیسے مجھ پر آسمان سے پتھر گر رہا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر سہیل بن بیضاء“، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [سورة الأنفال: 67] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12844]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12844 in Urdu