السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2662. -- باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بالمال
-- باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ لَيْسَ لَهُمْ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ"، قَالَ:" فَجَاءَ غُلَامٌ مِنْ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس فدیہ کے لیے کچھ نہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ مقرر کر دیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں، پس انصار کا ایک بچہ اپنے باپ کے پاس گیا، اس نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ بچے نے کہا: ”میرے معلم نے مجھے مارا ہے۔“ باپ نے کہا: ”وہ خبیث بدر کا بدلہ چاہتا ہے، اللہ کی قسم! اب تو اس کے پاس نہ جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12847]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12847 in Urdu