السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2683. جماع أبواب تفريق الخمس -- باب: سهم الله وسهم رسوله صلى الله عليه وسلم من خمس الفيء والغنيمة
باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبْسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ:" وَلَا يَحِلُّ مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا، إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَاضِيًا، وَصَلَّى اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ عَلَيْهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا فِي سَهْمِهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يُرَدُّ عَلَى السُّهْمَانِ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ مَعَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ الْإِمَامُ حَيْثُ رَأَى عَلَى الِاجْتِهَادِ لِلْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، وَالَّذِي أَخْتَارُ أَنْ يَضَعَهُ الْإِمَامُ فِي كُلِّ أَمْرٍ حُصِّنَ بِهِ الْإِسْلَامُ وَأَهْلُهُ، مِنْ سَدِّ ثَغْرٍ، أَوْ إِعْدَادِ كُرَاعٍ أَوْ سِلَاحٍ، أَوْ إِعْطَاءِ أَهْلِ الْبَلَاءِ فِي الْإِسْلَامِ نَفْلًا عِنْدَ الْحَرْبِ وَغَيْرِ الْحَرْبِ إِعْدَادًا لِلزِّيَادَةِ فِي تَعْزِيرِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، عَلَى مَا صَنَعَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ، وَنَفَّلَ فِي الْحَرْبِ، وَأَعْطَى عَامَ خَيْبَرَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَهْلَ حَاجَةٍ وَفَضْلٍ، وَأَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَاقَةٍ، نَرَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ كُلَّهُ مِنْ سَهْمِهِ.
عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غنیمت کے اونٹ کے پاس نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کر کے اونٹ کے پہلو سے بال پکڑے، پھر فرمایا: ”تمہاری غنیمتوں سے اتنا بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا اسلام میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو بطور انعام دینے کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور فضیلت والوں کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12943]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا اسلام میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو بطور انعام دینے کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور فضیلت والوں کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12943]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12943 in Urdu