🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ" قَالَ الْقُتَيْبِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: وَكَانَ سَبَبُ الْحِلْفِ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَتَظَالَمُ بِالْحَرَمِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جُدْعَانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَعَاهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ عَلَى التَّنَاصُرِ، وَالْأَخْذِ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ، فَأَجَابَهُمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَعْضُ الْقَبَائِلِ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ سَمَّاهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بْنُو هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَبَنُو زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَبَنُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: فَتَحَالَفُوا فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ، فَسَمَّوْا ذَلِكَ الْحِلْفَ حِلْفَ الْفُضُولِ تَشْبِيهًا لَهُ بِحِلْفٍ كَانَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ جُرْهُمٍ عَلَى التَّنَاصُفِ وَالْأَخْذِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، وَلِلْغَرِيبِ مِنَ الْقَاطِنِ، قَامَ بِهِ رِجَالٌ مِنْ جُرْهُمٍ يُقَالُ لَهُمُ: الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلُ بْنُ وَدَاعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ فَضَالَةَ، فَقِيلَ حِلْفُ الْفُضُولِ جَمْعًا لِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ. قَالَ غَيْرُ الْقُتَيْبِيِّ فِي أَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ: فَضْلٌ وَفَضَالٌ وَفُضَيْلٌ وَفَضَالَةُ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: وَالْفُضُولُ جَمْعُ فَضْلٍ، كَمَا يُقَالُ: سَعْدٌ وَسُعُودٌ، وَزَيْدٌ وَزُيُودٌ، وَالَّذِي فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: أَحْسِبُهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ؛ لِلْحَدِيثِ الْآخَرِ، وَلِأَنَّ الْمُطَيَّبِينَ هُمُ الَّذِينَ عَقَدُوا حِلْفَ الْفُضُولِ. قَالَ: وَأِيُّ فَضْلٍ يَكُونُ فِي مِثْلِ التَّحَالُفِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَأَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ" وَلَكِنَّهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ الَّذِي عَقَدَهُ الْمُطَيَّبُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالسِّيَرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ: إِنَّ قَوْلَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ، غَلَطٌ، إِنَّمَا هُوَ حِلْفُ الْفُضُولِ؛ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُدْرِكْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَدِيمًا قَبْلَ أَنْ يُولَدَ بِزَمَانٍ، ⦗٥٩٧⦘ وَأَمَّا السَّابِقَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَا سَابِقَةَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّهَا أَوَّلُ امْرَأَةٍ أَسْلَمَتْ.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک معاہدے میں شریک ہوا، مجھے پسند نہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ ملیں، اور اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔“ قتیبی کہتے ہیں: اس معاہدے کا سبب یہ تھا کہ قریش حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے تھے، تو عبداللہ بن جدعان اور زبیر بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مظلوم کا حق ظالم سے لینے کے معاہدے کی دعوت دی، تو بنو ہاشم اور قریش کے بعض قبائل نے ان دونوں کی بات مان لی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن اسحاق بن یسار نے ان کے نام ذکر کیے ہیں، کہتے ہیں: بنو ہاشم بن عبد مناف، بنو مطلب بن عبد مناف، بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنو زہرہ بن کلاب اور بنو تیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: انہوں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں معاہدہ کیا اور اس معاہدے کا نام حلف الفضول رکھا، اسے اس معاہدے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو جرہم کے زمانے میں مکہ میں انصاف کرنے، کمزور کا حق طاقتور سے اور پردیسی کا حق مقامی سے لے کر دینے پر ہوا تھا، اسے جرہم کے کچھ لوگوں نے قائم کیا تھا جنہیں فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ کہا جاتا تھا، تو ان کے ناموں کو جمع کرتے ہوئے اسے حلف الفضول کہا گیا۔ قتیبی کے علاوہ دوسروں نے ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ بتائے ہیں۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول، فضل کی جمع ہے، جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطیبین ہے۔ قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے، دوسری حدیث کی وجہ سے، اور اس لیے کہ مطیبین ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: پہلے معاہدے جیسے معاہدے میں کون سی فضیلت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اسے توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ ملیں“؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطیبین نے طے کیا تھا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیرت اور لوگوں کی تاریخ کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس حدیث میں حلف المطیبین کہنا غلطی ہے، وہ حلف الفضول ہی ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف المطیبین کا زمانہ نہیں پایا، کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا تھا۔ اور جس سبقت کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے اس سے مراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام میں سبقت کرنا ہو، کیونکہ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والی عورت تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13080]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13080 in Urdu